صحافی آصف بشیر کی کہانی انکی زبانی
ٹھیک آج ہی کے دن، 5 برس قبل میں نے ایک ویڈیو سکینڈل بریک کیا، ایک حساس ادارے کا اعلیٰ افسر احتساب عدالت میں نواز شریف کے مقدمات سننے والے جج محمد بشیر سے ملاقات کر کے باہر نکلا اور میرے کیمرے کی زد میں آ گیا_سوالوں کے جواب دینے کے بجائے اسائنمنٹ ڈائری کے پیچھے منہ چھپا لی افسر تو چلا گیا مگر میرے لیے کرب و بلا کے پہاڑ کھڑے ہو گئے ظالموں نے میری ماں کو فون پر ایسا دھمکایا کہ میرے لاکھ انکار کے باوجود ماں معاملے کی نزاکت بھانپ گئی بلڈ پریشر کی مریض والدہ کو شام ڈھلے برین ہیمبریج ہو گیا ڈاکٹرز نے جان تو بچا لی لیکن پھر بستر سے اٹھ نہ سکا مجھے لگا تھا ملک کی تقدیر کے فیصلے کرنے والے خفیہ ہاتھ کیمرے کے سامنے لے آیا ہوں اب ملک میں آئین اور سویلین بالادستی کی جدوجہد کو تقویت ملے گی اور آزادی اظہار رائے کا مقدمہ مزید مضبوط ہو گا لیکن وقت نے کچھ اور ہی ثابت کیا، ان تمام میدانوں میں ریت ہمارے ہاتھوں سے سرک گئی7 اب بستر پر پڑی 75 سالہ ماں جھریوں بھرے چہرے پر آنکھوں کو سکیڑ کر جب کبھی کمزور آواز میں پوچھتی ہے بیٹا کیا بنا تیری آئین اور جمہور کی بالادستی کی لڑائی کا؟ ...