Posts

صحافی آصف بشیر کی کہانی انکی زبانی

 ‏ٹھیک آج ہی کے دن، 5 برس قبل میں نے ایک ویڈیو سکینڈل بریک کیا، ایک حساس ادارے کا اعلیٰ افسر احتساب عدالت میں نواز شریف کے مقدمات سننے والے جج محمد بشیر سے ملاقات کر کے باہر نکلا اور میرے کیمرے کی زد میں آ گیا_سوالوں کے جواب دینے کے بجائے اسائنمنٹ ڈائری کے پیچھے منہ چھپا لی ‏افسر تو چلا گیا مگر میرے لیے کرب و بلا کے پہاڑ کھڑے ہو گئے ظالموں نے میری ماں کو فون پر ایسا دھمکایا کہ میرے لاکھ انکار کے باوجود ماں معاملے کی نزاکت بھانپ گئی بلڈ پریشر کی مریض والدہ کو شام ڈھلے برین ہیمبریج ہو گیا ڈاکٹرز نے جان تو بچا لی لیکن پھر بستر سے اٹھ   نہ سکا ‏مجھے لگا تھا ملک کی تقدیر کے فیصلے کرنے والے خفیہ ہاتھ کیمرے کے سامنے لے آیا ہوں اب ملک میں آئین اور سویلین بالادستی کی جدوجہد کو تقویت ملے گی اور آزادی اظہار رائے کا مقدمہ مزید مضبوط ہو گا لیکن وقت نے کچھ اور ہی ثابت کیا، ان تمام میدانوں میں ریت ہمارے ہاتھوں سے سرک گئی7  ‏اب بستر پر پڑی 75 سالہ ماں جھریوں بھرے چہرے پر آنکھوں کو سکیڑ کر جب کبھی کمزور آواز میں پوچھتی ہے بیٹا کیا بنا تیری آئین اور جمہور کی بالادستی کی لڑائی کا؟ ...

ریلوے گھوٹالا

اسلام آباد: پاکستان ریلوے میں حالیہ 845 تقرریوں کو 'بیلٹینگ' کے ذریعے لاہور ہائیکورٹ کے سامنے چیلنج کیا گیا ہے ، پاکستان ریلوے کے ملازمین (پی آر ای ایم) یونین نے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ نو تعینات عملے کی اکثریت کا تعلق راولپنڈی کے دو حلقوں سے ہے۔  وزیر ریلوے شیخ رشید احمد اور ان کے بھتیجے شیخ رشید شفیق۔  پریم یونین نے اپنے وکیل عمران شفیق کے ذریعہ ایل ایچ سی کے راولپنڈی بینچ کے سامنے یہ عرضی دائر کی گئی درخواستوں کو دائر کرنے کی درخواست کے ساتھ دائر کی۔  درخواست کے مطابق ، ریلوے حکام نے اکتوبر 2018 میں بی ایس 1 سے بی ایس 5 میں مختلف قسم کے 322 پوسٹوں کا اشتہار دیا تھا۔  ایک اور اشتہار صرف ایک ماہ بعد شائع ہوا ، جس میں خالی آسامیوں کی تعداد 323 سے بڑھا کر 845 کردی گئی ، عدالت کو بتایا گیا۔  درخواست میں کہا گیا ہے کہ ان آسامیوں کے لئے ہزاروں افراد نے درخواست دی ہے ، لیکن یہ تقرریاں قابلیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ’بیلٹینگ‘ کے ذریعے کی گئیں۔  “بیلٹینگ کے ذریعے بھرتی کرنے کا تصور زمین کے قانون سے بالکل اجنبی ہے۔  ان امیدواروں نے جنہوں نے ہنر / تحریری...

Down akhbar ka trasha

Image
Published   Sep 15, 2019   07:08am The regime CYRIL ALMEIDA BY now, it’s apparent to all — or at least to anyone willing to look — what this is. Gone are the fig leaves and legal nuances and faux optimism. It is what it is, it isn’t very pretty and it’s probably going to get a whole lot uglier. Welcome to the hybrid regime. A lot has already gone wrong and the stuff that has gone wrong is obvious for two reasons. Economic hurt is impossible to hide, especially at the consumer end and when jobs start to disappear. Folk can easily intuit what’s going on every time they buy something or wander around in search of jobs. Imran helped. His message was simple — I’ll fix everything at the same time in record time, just trust me — while the base he cultivated is simpler still: young-ish, previously apolitical and with not much understanding of much. Outsized expectations were always going to collide with reality, but that reality has turned out to be ...

رسل المیڈا

Image
Published   Sep 15, 2019   07:08am The regime CYRIL ALMEIDA BY now, it’s apparent to all — or at least to anyone willing to look — what this is. Gone are the fig leaves and legal nuances and faux optimism. It is what it is, it isn’t very pretty and it’s probably going to get a whole lot uglier. Welcome to the hybrid regime. A lot has already gone wrong and the stuff that has gone wrong is obvious for two reasons. Economic hurt is impossible to hide, especially at the consumer end and when jobs start to disappear. Folk can easily intuit what’s going on every time they buy something or wander around in search of jobs. Imran helped. His message was simple — I’ll fix everything at the same time in record time, just trust me — while the base he cultivated is simpler still: young-ish, previously apolitical and with not much understanding of much. Outsized expectations were always going to collide with reality, but that reality has turned out to be so...

4September

آج 4 ستمبر ہے آج مریم نوازشریف کی احتساب عدالت میں پیشی ہے مریم نوازشریف مثالی مسکراہٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئی ہیں میڈیا سے کوئی بات نہیں کی کیونکہ ان کو کیا گیا ہے کہ اگر انہوں نے میڈیا سے بات کی تو ان کے بچوں کو ان سے ملنے نہیں دیا جائے گا افسوس صد افسوس کیسا قانون ہے کیسا احتساب ہے کیسا انصاف ہے سوچ کے روح کانپ جاتی ہے یاد رہے مریم نوازشریف نے کبھی بھی پارٹی یا حکومتی عہدہ نہیں رکھا پھر بھی احتساب؟

Nawas shareef

آج ایک ایسے لیڈر کو یاد کر رہا ہوں جس نے ملک پاکستان کے لئیے بے انتہا کام کئیے جب بھی حکومت میں آئے ملک کے لئیے اچھا سوچا اچھا کیا لیکن ہمارے ملک کی اسٹیبلشمنٹ کو وہ پسند نہیں آئے اسٹیبلشمنٹ نے انہیں کمزور کیا ہر بار لیکن کبھی یہ نہیں سوچا کہ اسطرح ملک بھی کمزور ہو رہا ہے پتہ نہیں کب سمجھ آئے گی ہماری اسٹیبلشمنٹ کو